نئی دہلی، 7؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ گجرات کیڈر کے آئی پی ایس افسر راکیش استھانہ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنائے جانے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر 9 ؍دسمبر کو سماعت کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جج ڈی وائی چند رچوڑ اور جج ایل ناگیشور راؤ کی بنچ نے کہاکہ ٹھیک ہے، اس پر جمعہ کو سماعت ہوگی۔اس سے قبل مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے این جی او کامن کاز کے لیے لابنگ کرتے ہوئے اس درخواست کا ذکر کیاتھا ۔این جی او کی طرف سے دائر درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ استھانہ کو سی بی آئی ڈ ائریکٹر کا عہدہ سونپا جائے، مرکزی حکومت نے ایک کے بعد ایک قدم مکمل طورپر من مانے اور غیر قانونی طریقے سے اٹھایا ہے ۔درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ حکومت نے سلیکشن کمیٹی کی کوئی میٹنگ نہیں بلائی جس میں وزیر اعظم، سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر اور ہندوستان کے چیف جسٹس شامل ہوتے ہیں، حالانکہ حکومت کو پوری طرح اس بات کا علم تھا کہ انل سنہا 2 ؍دسمبر کو سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔1984بیچ کے آئی پی ایس افسر استھانہ کو 2 ؍دسمبر کو جانچ ایجنسی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی، اسی وقت سی بی آئی کے خصوصی ڈائریکٹر آر کے دتہ کو خصوصی سکریٹری کے طور پر وزارت داخلہ میں بھیج دیا گیا، وہ سی بی آئی کے اعلی عہدے کے اہم دعویداروں میں بتائے جا رہے تھے۔مفاد عامہ کی عرضی میں دعوی کیا گیا ہے کہ حکومت نے دتہ کی مدت کار کووقت سے پہلے ختم کر دیا اور انہیں سنہا کے عہدہ چھوڑنے سے محض دو دن قبل 30؍نومبر کو وزارت داخلہ میں بھیج دیا گیا۔